ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / چندصنعت کاروں کیلئے ہی کام کررہی ہے مودی سرکار،عوام کولڑانابی جے پی اورایس پی کاایجنڈہ 

چندصنعت کاروں کیلئے ہی کام کررہی ہے مودی سرکار،عوام کولڑانابی جے پی اورایس پی کاایجنڈہ 

Fri, 29 Jul 2016 19:37:30    S.O. News Service

صرف وعدوں سے دال نہیں گلتی،کانگریس مہنگائی کے خلاف تحریک چلائے گی

کانگریس ایک پارٹی ہی نہیں ایک نظریہ کانام ،راہل گاندھی نے اپنی پارٹی میں گروہ بندی کے خلاف بھی سخت پیغام دیا

لکھنؤ29جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے پارٹی میں گروپ بندی کے خلاف سخت پیغام دیتے ہوئے آج کارکنوں سے اپنی طاقت کو پہچاننے کی اپیل کی اورپیغام دیا کہ زمین پر رہ کر عوام کے درمیان رہنے والے کارکنوں کو ہی پارٹی میں آگے بڑھایاجائے گا۔لوک سبھا میں کل ’’ارہر مودی‘‘کے اپنے طنز کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس نائب صدر نے کہا کہ مودی جی تین چار چنے ہوئے صنعت کاروں کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے پہلے آپ کی زمین چھیننے کی کوشش کی اب آپ پلیٹ سے دال چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔صرف وعدوں سے دال نہیں گلتی ۔ہم کسانوں کے بھلے کے لیے اور مہنگائی کے خلاف تحریک چلائیں گے اورمودی جی کو سمجھائیں گے کہ ملک کی غریب عوام آپ کے جھوٹے وعدوں کو نہیں مانتی۔وزیر اعظم مودی کے بلٹ ٹرین چلانے کے وعدے پر طنز کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ مودی جی بلٹ ٹرین چلانے کی بات کر رہے ہیں۔ملک کا ریل بجٹ ایک لاکھ40ہزارکروڑکاہے۔ایک بلٹ ٹرین کی قیمت ایک لاکھ کروڑہے۔مطلب مودی جی ایک بلٹ ٹرین پرمکمل ریل بجٹ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ بلٹ ٹرین میں بیٹھے گا کون۔اس میں بیٹھنے کاکرایہ تو 10-15ہزار سے کم نہیں ہوگا۔
بی جے پی اور ایس پی کی طرف سے مل اتر پردیش کو نفرت کی آگ میں جلانے کی مبینہ سازش کے بارے میں کانگریس نائب صدر نے کہا کہ سماج وادی پارٹی اور بی جے پی ایک ہندوستانی کو دوسرے ہندوستانی سے لڑانے کا کام کرتے ہیں۔کانگریس ایک دوسرے کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ہم الگ الگ ذات اور مذہب کے لوگوں کو شامل کرنے کا پروگرام لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے ہیں جہاں کسی کو بھی یہ لگے کہ اس ملک میں اس جگہ نہیں ملتی ہے۔کوئی یہ نہ کہے کہ میں جو سوچتا ہوں اس دبایاجارہاہے۔ہر شہری کو لگنا چاہیے چاہے وہ کسی بھی نسل مذہب یا جنس کا ہو، اتر پردیش ہماری ریاست ہے۔یہ کانگریس کی سوچ ہے۔یہ سوچ 27سال سے یوپی میں دبائی اورمٹائی گئی ہے۔اس ریاست کوتوڑاگیاہے،لڑایا گیا ہے۔اس کو ہم تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔صرف کانگریس ہی اسے بدل سکتی ہے۔راہل گاندھی نے کہاکہ کانگریس صرف یوپی میں نہیں بلکہ پورے ملک کے کونے کونے میں زندہ ہے۔کانگریس نہ صرف ایک تنظیم ہے بلکہ ایک سوچ بھی ہے۔جو لیڈر اور کارکن دیہات میں کام کرتے اور خون پسینہ بہاتے ہیں، انہیں آگے بڑھایا جائے گا۔اترپردیش کی پولیسنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبے کے پولیس اسٹیشن سیاسی دفتربنے ہوئے ہیں۔کانگریس تھانوں سے سیاست کو باہر نکال کر صحیح قانون وانتظام دلائے گی۔اگر کوئی پولیس والا گڑبڑ کرے گاتواسے ہٹا دیا جائے گا۔
راہل نے’’یوپی ادگھوش‘‘پروگرام کے دوران کارکنوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مرکز کی نریندرمودی حکومت پر صرف کچھ گنے چنے صنعت کاروں کے لیے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس پرتلخ حملے کئے۔مشن2017کے لیے کانگریس کی نئی ٹیم کی تشکیل کے بعد پہلی بار لکھنؤ آئے راہل نے ریاست کی تنظیم میں گروپ بندی کے سوال پر واضح پیغام دیتے ہوئے کہاکہ اتر پردیش کو پہلے نمبر پرلاناہمارامقصدہے۔ہمارا جو راستہ اورسمت ہے اسے لے کرکانگریس کے اندر عام رائے ہے۔اگرکوئی اس کے خلاف کام کرے گا، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو، اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس آئندہ اسمبلی انتخابات کو ایک منصوبہ بنا کر لڑے گی۔اس میں ہر لیڈرکو کوئی نہ کوئی ذمہ داری دی جائے گی۔لیڈر کو زمین پر اترکرمہینے میں20-25دن لڑناپڑے گا۔جو لوگ زمین پر اور عوام کے درمیان دکھائے گا۔وہ لوگ جن کے جوتے پھٹیں گے، جن کا کرتہ گیلاہوگا، وہ ہی کانگریس کو آگے بڑھائیں گے۔دہلی کی سابق وزیراعلیٰ 78سالہ شیلا دکشت کو اتر پردیش میں وزیراعلیٰ کے عہدے کا امیدواربنائے جانے کے جواز کے سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ سوچ عمر سے زیادہ ضروری چیز ہوتی ہے۔شیلادکشت میں وسیع تجربہ ہے، انہوں نے دہلی میں تین بار راج کیااوراسے تبدیل کر دیا۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں لوگ اپنی غلطی پرپچھتا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پہلے کام ہوتا تھا، اب صرف ڈراما اور بیان بازی ہوتی ہے۔ممبران اسمبلی جیل جاتے ہیں۔آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا براہ راست مقابلہ کس پارٹی سے ہوگا، اس سوال پر راہل گاندھی نے سیدھا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ اگر کانگریس اپنے کارکنوں کی آواز پر چلی تو آئندہ اسمبلی انتخابات میں اس کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے کارکن کوں زمینی لیڈروں کو جگہ دی جائے اور ہم اپنے نظریات اورپالیسیوں پرلڑیں۔پارٹی کے نظریات ہرذات،ہر مذہب اور ہر سوچ شخص کو جگہ دینے کی ہیں۔اسمبلی میں کسی ایک کی اجارہ داری نہ چلے اور غریب سے غریب کی آوازاوپرتک پہنچے۔


Share: